30 اکتوبر 2026 - 16:20
یمنی مسلح افواج کی مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی تردید، سعودی عرب کا الزام بے بنیاد قرار

یمن کی مسلح افواج نے سعودی عرب کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ مکہ مکرمہ کی فضائی حدود میں ایک ڈرون کو مار گرایا گیا ہے۔ یمنی افواج کا کہنا ہے کہ انہوں نے آج سعودی عرب کی سرزمین کے اندر کوئی کارروائی نہیں کی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن کی مسلح افواج نے واضح کیا ہے کہ انہوں نے آج سعودی عرب کی سرزمین کے اندر کوئی کارروائی نہیں کی اور مکہ مکرمہ کی فضائی حدود میں ڈرون مار گرانے سے متعلق ریاض کے دعوے کو بڑا اور کھلا بہتان قرار دیا ہے۔

یمنی مسلح افواج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہماری کارروائیوں کا ہدف دشمن کی تیل تنصیبات اور فوجی اڈے ہوتے ہیں۔ اب دنیا میں کوئی بھی آل سعود کی مجرم حکومت کے پھیلائے ہوئے ان الزامات اور جھوٹ پر یقین نہیں کرتا۔

یمنی افواج نے گزشتہ روز سعودی عرب کی سرزمین کے اندر چھ خصوصی فوجی کارروائیاں کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ان کے مطابق، پہلی کارروائی میں سعودی آرامکو کمپنی کی رأس تنورہ ریفائنری اور دوسری کارروائی میں بقیق کے مقام پر اس کمپنی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

اعلان کے مطابق، تیسری کارروائی میں ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، چوتھی کارروائی میں دمام کے شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور پانچویں کارروائی میں رابغ آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا گیا۔

چھٹی کارروائی میں نجران کے علاقے میں سعودی فوجیوں کے اجتماع کے کمانڈ ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔

تعز اور الجوف پر سعودی فضائی حملے

یمن کی صورت حال کے دوسرے پہلو میں سعودی لڑاکا طیاروں نے آج صوبہ تعز کے ضلع مقبنہ کے علاقے المجاشہ میں مواصلاتی نظام کو نشانہ بنایا۔

یمنی ٹی وی چینل المسیرہ کے مطابق، اس حملے میں ایک یمنی شہری شہید ہوگیا۔

اس کے علاوہ سعودی لڑاکا طیاروں نے صوبہ الجوف کے علاقے حویشان پر دو فضائی حملے کیے، جبکہ صوبہ تعز کے ضلع حیفان پر بھی دو مزید حملے کیے گئے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha